مٹھی بھرغیر سماجی عناصر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے توازن کو توڑ کرملک کے جمہوری اقدار کو مجروح کرنے کی کوشش

مٹھی بھرغیر سماجی عناصر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے توازن 
کو توڑ کرملک کے جمہوری اقدار کو مجروح کرنے کی کوشش میں ملوث ہیں۔ارشد جمال


مؤناتھ بھنجن۔نگر پالیکا پریشد کے سابق چیئر مین، سماج وادی پارٹی کے سینئر رہنما ارشد جمال نے آج ایک پریس ریلیز کے ذریعہ اپنے مافی ضمیر کو عیاں کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب سے ملک میں بی جے پی کی حکومت تشکیل ہوئی ہے ملک کے بین المذاہب ہم آہنگی کو لگاتار ٹھیس پہونچائی جا رہی ہے اور حکومت ہند ایسے مٹھی بھر غیر معاشرتی عناصر جن کے ذریعہ مذہبی تعصب پھیلاکر اقلیتوں کو لگاتار نشانہ بنائے جانے، راہگیروں و مسافروں کو جان سے مارڈالنے، نام نہاد گائے کے محافظین (گورکچھشکوں) کے ذریعہ مسلمانوں کو زدوکوب کرنے نیز انسانی قدروں کو پامال کرنے کے عمل اوراس جیسی مجرمانہ سوچ کو کچلنے اوران کے ذریعہ ملک کے جمہوری ڈھانچے کوکمزور کرنے کے عمل کی روک تھام کے لئے کوئی مؤثر قدم نہ اٹھائے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔مسٹر جمال نے کہا کہ ملک کی آزادی ہم نے ایک ساتھ مل کر لڑی ہے جس کا قطعی یہ مقصد نہیں تھا کہ چند دہائیوں کے بعد ہماری فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑنے کی جسارت کرنے والے مٹھی بھر لوگوں کو جمہوری قدروں کے خلاف کام کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی جائیگی بلکہ ہمارے اکابرین کی اجتماعیت اس سوچ پر کام کر رہی تھی کی ہماری آئندہ نسلیں جمہوری نظام پر مبنی اس ملک میں بنا کسی خوف و ہراس نیز قلوب کو زق کرنے والے ماحول سے نجات حاصل کر چکی ہونگی اور سبھی کو برابری کا آئینی حق حاصل ہوگا اور بغیر کسی مذہب کی تفریق کے ہر فرد کا تحفظ ملک کی حکومتوں کے کندھوں پر آئد ہوگاجس کی یقین دہانی آزادی کے حصول کے بعدہمارے ہندوستانی آئین نے بھی کرائی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے بٹوارے کے بعد مسلمانوں کے پاس انتخاب کا موقع تھا کہ وہ ہندوستان میں رہیں یا پاکستان میں۔لیکن ہمارے آباو اجداد نے ہندوستان سے محبت اور وفاداری کے سبب ہندوستان کو اپنے لئے منتخب کیا جہاں پریہ پہلے سے ہی رہتے چلے آرہے ہیں۔جبکہ ہمارے ہم وطنی بھائیوں کے پاس کوئی دوسرا چارہ تھاہی نہیں اس لئے انہیں ہندوستان میں ہی رہنا تھا۔ تب بھی ملک کے تئیں وہ ہماری جاں نثاری وحب الوطنی پرشک کر تے ہیں۔ملک سے محبت کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے کہ دوسرے ملک کو ہجرت کرنے کا راستہ کھلا ہونے کے باوجود بھی مسلمانوں نے ہندوستان میں ہی رہنا، جینا اورمرنا پسند کیا۔انہوں نے کہا کہ مٹھی بھرغیر سماجی عناصر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے توازن کو توڑ کرملک کے جمہوری اقدار کو مجروح کرنے کی کوشش میں ملوث ہیں جب کہ ملک کے آئین کے مطابق ہر فرد برابر ہے، ہر شخص کی جان چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو کافی اہمیت کی حامل ہے اور ہر شخص انفرادی طور پر ملک کی افرادی طاقت ہے جس کی اجتماعیت میں ہی ملک کی سالمیت محفوظ ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر تعصب کا زہر گھولنے والے افراد کی نشاندہی کرتے ہوئے حکومتوں نے ان پر جلد ہی قدغن نہیں لگایا تو ہمارے ملک کا شیرازہ منتشر ہو جائیگااور تب ہماری جمہوریت کا گلا گھونٹ جانے کے ممکنہ خدشے سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔مسٹر جمال نے کہا کہ یہ ہم سبھی کا ملکی اور مذہبی فریضہ ہے کہ اپنے ملک کی حفاظت اور امن و امان کے تحفظ اور ترقی کیلئے بغیر تفریق مذہب ایک ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلیں اوران تمام افراد جن کی سوچ ملک کے سیکولر مزاج میں زہر گھولنے کی ہے کے خلاف ایک ساتھ کھڑے رہیں۔اسی کے ساتھ انہوں نے ان لوگوں سے جن کے کندھوں پر آئین، قانون، امن وامان نیز انصاف کے تحفظ کی بڑی بڑی ذمہ داریاں عائد ہیں سے بھی مخلصانہ اور سنجیدہ اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آپ بھی اپنے فرائض منصبی کو ایماندارانہ طریقے سے ادا کریں کیونکہ ملک کا یہ جمہوری نظام متعین قانون کے مطابق آپکے عملی کردار کی بھی مانیٹرنگ کر رہا ہے اور اگر آپ نے اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے میں کوئی کوتاہی برتی تو آپ کسی مذہب خاص کے ماننے والے متاثرین سے پہلے ہماری جمہوریہ کے مجرم قرار پائیں گے اور پھر ملک کا یہ قانون جلد یا بدیر آپ پربھی نافذ ہوگالیکن تب تک آپ کی ذات سے ہمارے ملک کے فرقہ وارانہ ہم آہنگی و بین المذاہب اقدار کو کافی ٹھیس پہونچ چکی ہوگی۔ انہوں نے حکومت ہند سے مانگ کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے تمام خطوں، علاقوں اور قریوں میں تمام باشندگان ہند کے تحفظ کے نظم کو مزید بہتر بنانے پر نظر ثانی کرتے ہوئے خاص طور سے اقلیتوں اور دلتوں کے تحفظ کو یقینی بنائے تاکہ ملک کا سیکولر نظام اپنے آئینی محور پر کام کرتا رہے ورنہ چند لوگوں کے عمل کے چلتے ملک میں پیدا شدہ خوف و ہراس کے اس ماحول کی وجہ سے رونما ہونے والے موجودہ حالات کے سبب ہمارے ملک کی سیکولر شبیہہ کو خطرہ لاہک ہے جس کا فوری صد باب کیا جانا ملک کے مفاد میں لازم و ضروری ہے۔