بارش ہونے پر بھی وقت سے ہوگا دھرنا- مفتی انور علی


 زبردست اجتماعی دھرنا کے تعلق سے مؤ ناگرک منچ کی پریس کانفرنس
بارش ہونے پر بھی وقت سے ہوگا دھرنا- مفتی انور علی

مؤناتھ بھنجن۔ جب سے مرکز میں بی جے پی کی حکومت آئی ہے تب سے لگاتار ملک کے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کونقصان پہونچانے، منظم بھیڑ کی طرف سے کئے جا رہے قتل، اقلیتوں اور دلتوں پر حملے، نفرت کی سیاست کے خلاف، جمہوریت اور آئین کی حفاظت کے لئے مؤ ناگرک منچ کی جانب سے اگلے جمعہ کو ہونے والے زبردست دھرنے کے تعلق سے مؤ ناگرک منچ کے کنوینر مفتی انور علی نے آج مسکن میں ایک پریس کانفرنس کو خطاب کیا۔
کنوینر مفتی انور علی نے پریس سے بات چیت میں کہا کہ جمہوری اقدار کو نقصان پہنچا کر کوئی شخص آئین کے لئے وقف کیسے ہو سکتا ہے۔ ایسے لوگ جو آئین کی منشا کے خلاف عمل کرتے ہوئے ہمارے ہندوستانی جمہوری اقدار کی جڑیں کھود رہے ہوں انکی نشاندہی کرکے  فوری طورپر انہیں روکا جانا نہایت ضروری ہے۔ مولانا نے فکر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال کے بشیر گھاٹ میں ایک بے قصور کو بھیڑ کے ذریعہ قتل کر دیا گیا،نصیرپور گاؤں میں یونس خان کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا، جھارکھنڈ میں مظلوم انصاری اور آزاد خان کو گؤ رکچھا کے نام پر درخت سے لٹکا کر مار دیا گیا، ایک ٹرک ڈرائیور زاہد کو جلا دیا گیا، کشمیر میں ایم ایل اے رشید انجینئر پر حملہ کر کے چہرے پر کالک پوتی گئی، متین عباس کو گؤ رکچھا گروپ نے گولی مار دی، گجرات میں سر عام دلت نوجوانوں کو مارا پیٹا گیا، مندیسور یلوے اسٹیشن پر ایک عورت پر گوشت لے جانے پر حملہ ہوا، الور ضلع میں پہلوان پہلو خان کو بیچ روڈمار ڈالا گیا، کشمیر میں ایک مسلمان خاندان پر گؤرکچھا ٹیم نے حملہ کیا، آسام میں ابو حنیفہ اور ریاض الدین کو مار دیا گیا، زاہد رسول نامی نوجوان کو بم مار کر ہلاک کردیا، غلام محمد، جنید اور اخلاق احمد کو مار دیا اور ایسے بہت سے واقعات بھیڑ کی طرف سے ہو رہے ہیں جس سے ہمارے ملک کی تصویر خراب ہو رہی ہے۔ انہوں نے اپنی اپیل میں جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ بارش ہونے پر بھی دھرنا اپنے متعینہ مقام چھیتن پورہ عید گاہ کے صحن میں 2 بجے سے 4بجے تک ہوگا۔مولانا نے بتایا کہ اس دھرنے میں ڈاکٹروں، وکیلوں، دانشوروں، سیاسی جماعتوں اور سماجی تنظیموں نیز بیاپاریوں کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔
پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے مولانا افتخار مفتاحی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہمارا ملک جمہوری نظام پر مبنی ہے اور ہمارے اپنے آئین سے چلتا ہے، پر اس وقت ملک میں بھیڑ کی طرف سے کسی شخص کو جان سے مارڈالنے اور اقلیتوں اور دلتوں کو نشانہ بنائے جانے سے ملک کی گنگا جمنی تہذیب اورہمارے ملک کی انیکتا میں چھپی ایکتا کی مثال ہماری جمہوریہ پر ہی خطرہ مڈرانے لگا ہے۔ کیا بھیڑ کی طرف سے کسی شخص کو پکڑ کر خود ہی انصاف دینے کا بیڑا اٹھا لینا مناسب ہے۔ انہیں تمام غیر جمہوری کاموں اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے ماحول کو آلودہ کرنے والے واقعات کو دیکھتے ہوئے بڑا سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ ملک میں قانون کا راج قائم رہے گا یا بھیڑ کا۔ انہی خطرات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہم ملک کے تمام دانشوروں، مفکرین، سیاسی لیڈران،مذہبی رہنماؤں اور ملک کے تئیں ذمہ دار عام لوگوں کو ایک ساتھ لے کر یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہماری مرکزی حکومت ملک اور ملک کے آئین اور ہماری جمہوریت کی حفاظت کیلئے ایسے مکروہ اور مہلک ماحول پیدا کرنے والوں کے خلاف بلا تاخیر کارروائی کرے۔
صحافیوں کی طرف سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں سماجی کارکن اروند مورتی نے کہا کہ ہم انسانیت کی حفاظت کے لئے کسی بھیڑ کے ذریعہ غیر آئینی عمل کے خلاف تمام سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں، مذاہب اور قبیلوں کو ایک ساتھ لے کر 14 تاریخ کو جمعہ بعد یہ دھرنا کرنے جا رہے ہیں۔
ویریندرکمار ومردھر یادونے کہا کہ ہمارے سامنے سب سے بڑا یہی خطرہ کھڑا ہے کہ ملک میں قانون کے راج کی پکڑ ڈھیلی پڑتی جا رہی ہے، جس سے پورے ملک میں بھیڑ تنتراکا ایک نیا تصور پنپ رہا ہے۔ ماب لنچنگ یعنی بھیڑ کی طرف سے کسی کو مار ڈالنے پر روک لگنی چاہیئے۔ 
مؤناگرک منچ کے ترجمان ارشد جمال نے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ تمام لوگ پرامن طریقے سے تحمل کے ساتھ اس دھرنے میں شریک ہوں۔مسٹر جمال نے بتایا کہ 4 بجے ضلع مجسٹریٹ کے ذریعہ عزت مآب صدر جمہوریہ ہند کو مانگ خط سونپا جائے گا۔ مسٹر جمال نے کہا کہ ہمیں اپنے شہر مؤ سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی حفاظت کیلئے غالب قدم اٹھانا ہے اور پورے ملک کو اس کی ترغیب دیتے ہوئے اس زبردست اجتماعی دھرنا کے ذریعہ یہ پیغام بھی دینا ہے کہ ہمیں ہمارے جمہوریہ کی حفاظت کرنی ہے، ملک کے آئین کو بچانا ہے اور تمام مذاہب اور خیالات کے لوگوں کی کثرت میں چھپے ہمارے اتحاد کی اس خوبی کو بھی ہمیشہ برقرار رکھنا ہے۔