دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم کا حصول بھی ضروری۔ارشد جمال

 رسول اکرم نے انسانیت کا پیغام دیا،اسلام نے سبھی کے ساتھ یکساں سلوک کی تلقین کی ہے۔ساجد حسین چترویدیؔ

دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم کا حصول بھی ضروری۔ارشد جمال

مؤناتھ بھنجن۔ گزشتہ شب پورہ معروف کر تھی جعفرپور واقع محلہ بلوہ املی باغ میں مظہر العلوم بنارس کے صدرمدرس مولانا خورشید انور کی صدارت میں ایک جلسہ عام کا انعقاد کیا گیا۔بعد نماز عشاء منعقد ہونے والے اس جلسہ کی شروعات محمد ثوبان کے ذریعہ تلاوت کلام پاک سے ہوئی اور مقررین علماکرام نے ’اسلام کا پیغام انسانیت کے نام‘ عنوان پر تقریریں کیں۔

اس جلسہ میں مولاناساجد حسین چترویدیؔ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق و کردار نیز اللہ کی وحدانیت کو نہایت سلیس انداز میں بیان کیا۔مولانا نے کہا کہ رسول اکرم   نے خالص انسانیت کا پیغام دیاہے۔اسلام نے سبھی کے ساتھ یکساں سلوک کی بھی تلقین کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اللہ نے بندوں کے کردار و عمل کو حقوق اللہ اور حقوق العباد سے مکلف کر دیا ہے۔اللہ کے حقوق میں ہونے والی کوتاہی پر اللہ تعالی قادر ہیں وہ معاف کرسکتے ہیں۔لیکن اگر کسی نے بندوں کے ساتھ حق تلفی کی تو معاملہ کافی سنگین بن جاتا ہے اور تب تک کوئی معافی نہیں مل سکتی جب تک متاثر بندہ اس کے لئے قائل اور اپنی رضا مندی نہ دے دے۔ مولانا نے کہا کہ ہر مسلمان کلمہ کے پہلے جز میں تمام معبودان باطل کا پہلے انکار کرتا ہے اور پھر اللہ واحد کا اقرار کر تا ہے اورتب وہ اسلام کی دیگر ہدایات کو اپنی زندگی میں نافذ کرنے کا اہل بن پاتا ہے۔اگر کوئی مسلمان اللہ کی وحدانیت کا اقرار بھی کرتا ہو اور کسی دیگر کو اس کے ساتھ شریک بھی کرتا ہوتو وہ نہ تو اللہ کی منشا کے مطابق مسلمان ہے اور نہ ہی اسکا کوئی عمل اسلامی قرار پائیگا کیونکہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا اللہ کے نزدیک سب سے بڑا جرم ہے اور شرک کرنے والا شخص کبھی اللہ کی معافی حاصل نہیں کر سکتا۔
دارالعلوم دیو بند کے استاذ مولانا عبداللہ معروفیؔ نے اپنے خطاب میں کہا کہ رسول اللہ سے سبھی کو ہر شے سے زیادہ محبت ہونی چاہیئے۔انہوں نے کہا کہ کوئی مسلمان اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کے دل میں نبی اکرم   کی محبت دنیاوی مال و مطاع نیز بیوی وبچوں حتیٰ کہ اس کی جان سے زیادہ خود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لئے محبوب نہ ہو جائیں۔
جلسہ میں علما اکرام اور مہمان خصوصی کی حیثیت سے موجود نگر پالیکا پریشد کے سابق چیئر مین ارشد جمال کے ہاتھوں مولانا محمد زبیر اعظمی معروفیؔ کی تصنیف کردہ کتاب نعت پاک کا مجموعہ ’سلام اس پر“مرتبہ”مطیع اللہ مسعود قاسمی“ کا رسم اجراء کیا گیا۔رسم اجراء کے بعد ارشد جمال نے مصنف کتاب کو پانچ ہزار روپیہ بطور انعام دیا۔اس موقع پر اپنے خطاب میں مسٹر جمال نے صوبہ اتر پردیش اور ملک کے موجودہ حالات پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اقلیتوں پرڈھائے جا رہے مظالم اور قانون کا انحراف کرتے ہوئے بھیڑ کے ذریعہ کسی بھی بے قصور انسان کو مذہبی تعصب کی بنیاد پر قتل کر دینے جیسی وارداتوں کی مزمت کی اورسرکار سے اس طرح کی وارداتوں پر بھی فوری طور پر روک لگانے کی اپیل کی۔انہوں نے مؤ کے نصیر پور میں ہوئے واقعہ میں ابھی تک ملزمان کو گرفتار نہ کئے جانے اور واردات میں استعمال ہوئے اسلحہ و موٹر سائیکل کو برآمد نہ کئے جانے پرگہری تشویش کا اظہار کیا۔مسٹر جمال نے ملک میں ایسی وارداتوں کے خلاف مفتی انور علی صاحب کی قیادت میں کام کر رہے’مؤ ناگرک منچ‘ کی طرف سے 14 /جولائی کو مؤ کلیکٹریٹ میں ہونے والے مظاہرے میں بھی بڑی تعداد میں شامل ہونے کے لئے عوام سے اپیل کی نیز ناگریکوں سے کہا کہ ہماری جمہوریہ کی حفاظت کے لئے ہمیں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہے۔ مسٹر جمال نے کہا کہ دینی تعلیم کے حصول کے ساتھ عصری تعلیم کا حاصل کرنا بھی ہمارے لئے لازم وضروری ہے۔ مسلمانوں کوچاہیئے کہ وہ خاص طور سے اس کی طرف راغب ہوکردینی و عصری اعلی تعلیم حاصل کریں۔ہمیں چاہیئے کہ ہم اپنے اسلامی تشخص اور معاشرتی معیار کو بلند بنانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھیں۔جب ہم تعلیم سے مرسع ہونگے تو اپنے مذہب کی صحیح عکاسی بھی کر پائیں گے اوراسی کے ساتھ ملک کی ترقی میں بھی اپنا قیمتی تعاون دے سکیں گے۔اعلی تعلیم ہمارے اسلاف کا شعار تھا جس سے انحراف کے بعد ہی ہم پستی اور تنزلی کے راستے پر تیزی سے چل پڑے جس کے نتیجہ میں ہم خطرناک حد تک اپنے ہم وطنی بھائیوں سے پیچھے چھوٹ چکے ہیں۔ 
جلسہ کے کنوینرمطیع اللہ مسعود قاسمیؔ نے خطبہئ استقبالیہ پیش کیا جس میں مصنف کتاب کے بارے میں تفصیل بتائی نیز تعارف میں پورہ معروف کے باکمال لوگوں کا بھی ذکرکیا۔
صدر اجلاس مولانا خوشید انور نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ ہم نبی اکرم   کے دامن سے وابستہ ہیں اس لئے انسانیت کی بقا اور اس کا تحفظ ہمارے کندھوں پر عائد ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی زندگی کا جائزہ لینا چاہیئے کہ آیا ہم رسول اللہ کے اسوہئ حسنہ پرعملی طورپر قائم ہیں یا کسی دوسری سمت اپنی خواہشات کی تکمیل میں مست و مگن ہیں۔
اس موقع پرمولانا ابوالعاص نظام آباد،مولانا صلاح الدین،مولانا ارشاد، ابو ہریرہ یوسفیؔ،شاہد فضل، مولوی شمیم،مولوی محمد طاہر،خالد سعید، حسین احمد ناظم،مولوی عبد الرحیم،قاری عظیم الرحمن،راشد کمال، مولانا حبیب الرحمن، مولانا ارشد، حافظ زین الدین،بشیراحمد کے علاوہ عام و خاص لوگوں کا جم غفیرمیدان میں موجود رہا۔جلسہ کی صدارت مولانا خورشید انورنے کی و نظامت کے فرائض مولانا انصار احمد نے ادا کئے۔