51 ہزار روپئے ’شادی شگن‘ کے نام پراقلیتوں کو وظیفہ دینے کا وعدہ مرکزی حکومت کا چھلاوہ۔ارشد جمال

51 ہزار روپئے ’شادی شگن‘ کے نام پراقلیتوں کو وظیفہ دینے کا وعدہ مرکزی حکومت کا چھلاوہ
2025 میں طالبات کو ملے گی اس وظیفے کے رقم کی پہلی قسط۔ارشد جمال


مؤ ناتھ بھنجن۔مرکزی حکومت کے محکمۂ انسانی حقوق و وسائل کے ذریعہ کام کرنے والے مولانا ابوالکلام آزاد فاؤنڈیشن کے ذریعہ 10 ویں پاس کرنے والی طالبات کو 11ویں میں 6 ؍ہزاراور 12 ویں درجہ میں 6؍ہزار روپئے کا وظیفہ دیا جاتا تھا۔مر کز میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکار بننے کے بعد 2015 سے اس وظیفے کو بند کر دیا گیا ہے۔سرکار کا یہ کہنا ہے کہ اقلیتی طبقہ کی طالبات کو 9 ویں اور 10 ویں درجات میں 10 ؍ہزار روپئے کا وظیفہ آزاد فاؤنڈیشن سے دیا جائیگا۔نگر پالیکا پریشد کے سابق چیئر مین ارشد جمال نے اس ضمن میں ایک پریس نوٹ میں بتایا ہے کہ صوبے بھر میں ہائی اسکول کے امتحان میں یوپی بورڈ،سی بی ایس ای بورڈ اور آئی سی ایس ای بورڈ سے کل 20 ؍لاکھ طالب علم حصہ لیتے ہیں۔جس میں اقلیتی طبقہ کے طلبا و طالبات کی تعداد ساڑھے تین لاکھ کے آس پاس ہوتی ہے جس میں طالبات کی تعداد یوپی میں 2 ؍لاکھ سے تجاوز کر جاتی ہے۔سابق چیئر مین نے بتایا کہ مولانا آزاد فاؤنڈیشن سے پورے ملک سے 50 ؍ہزار اور اتر پردیش کی8532 طالبات کو اس وظیفہ کا کوٹہ متعین تھا۔یعنی اتر پردیش میں ہائی اسکول پاس کر نے والی کل طالبات کا لگ بھگ 4؍فیصد۔حکومتوں کی اقلیتوں کے ساتھ اپنی جھوٹی ہمدردی کا ڈھنڈورا پیٹنے کی اس سے بڑی نظیر اور کیا ہو سکتی ہے۔


ارشد جمال نے موجودہ حکومت کی ’شادی شگن‘ اسکیم کے اعلان کے بعد اس کی وضاحت کرتے ہوئے بتا یا ہے کہ طالبات کو51 ؍ہزار روپئے کی یہ رقم 2025 سے ملنا شروع ہوگی کیونکہ حکومت نے اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے والوں کے لئے یہ شرط لگا رکھی ہے کہ شادی شگن اسکیم انہیں طالبات کو ملے گی جنہوں نے مولانا آزاد فاؤنڈیشن سے9 ویں اور 10 ویں درجات میں وظیفہ حاصل کیا ہوگا۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو طالبات 2017 میں 9 ویں کلاس میں زیر تعلیم ہیں وہ 2024 میں گریجوئٹ ہونے کے بعد ہی 2025 میں اس کا فائدہ حاصل کر سکیں گی۔سابق چیئر مین ارشد جمال نے مرکزی حکومت سے یہ مانگ کی ہے کہ اس کوٹے کو 8532 سے بڑھا کر 50 ؍ہزار کیا جائے اورمولانا آزاد فاؤنڈیشن کے سابقہ اصول یعنی ہائی اسکول پاس ہونے کے بعد 11 ویں میں داخلہ لینے پر وظیفہ دینے کے نظم کوبر قرار رکھا جائے نیز2017 میں جن طالبات نے گریجوئٹ کر لیا ہے ان کو شادی شگن اسکیم کے تحت 51 ؍ہزار روپئے کی رقم فراہم کرائی جائے۔
سابق چیئر مین مسٹر جمال نے مزید کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اگر اقلیتی طبقات میں اپنی شبیہہ کو بہتر بنانا چاہتی ہے تو وہ تعصب سے اوپر اٹھ کر سچر کمیٹی کی رپورٹ کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کے تعلیمی اور معاشرتی نظام کو بہتر بنانے کے کئے ٹھوس و نمایاں اقدام کرتے ہوئے ان کے ساتھ بہتر کارکردگی دکھانے کی ضرورت ہے۔اسی کے ساتھ اقلیتوں کے دلوں میں بی جے پی کے تئیں پیوست خوف و ہراس اور مایوسی کو بھی دور کرنا مرکز و صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔