اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور رواداری سے ہی شہر کی ترقی ممکن ہے۔ ارشدجمال


اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور رواداری سے ہی شہر کی ترقی ممکن ہے۔ ارشدجمال
خیرسگالی، باہمی رواداری اور ایثار و ہمدردی ہمارے اسلاف کی روایت رہی ہے جس کی حفاظت کرنا ہماری اہم ذمہ داری ہے۔ باہمی رواداری اور خیرسگالی کے بغیر نہ ہمیں سکون میسر ہوسکتا ہے نہ ہی ہم ترقی کرسکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مؤنگرپالیکا پریشد کے سابق چیئرمین ارشدجمال نے میڈیا کے ساتھ غیر رسمی گفتگو کے دوران کیا۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے معاشرہ میں سکون و ترقی اسی وقت ممکن ہے جب ہرکسی کے حقوق وجذبات کا خیال رکھا جائے۔ خاص طور سے اقلیتوں کے حقوق، جذبات، قرباینیوں اور معاشرہ کی تعمیر میں ان کی حصہ داری کا خیال رکھا جائے۔ اکثریتی فرقہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور جذبات کا خیال رکھیں۔ انھوں نے واضح کیا کہ اقلیت سے مراد صرف مسلم طبقہ نہیں ہے بلکہ کسی مقام پر جن لوگوں کی تعداد کم ہے وہاں وہ اقلیت ہیں۔مثلاً ہمارے شہر میں سب سے بڑی تعداد انصاریوں کی ہے اور شہر کا کاروباری نظام بھی تقریباً مکمل طور پرہم انصاریوں کے ہی ہاتھ میں ہے اس لئے شہر میں رواداری اور خیر سگالی قائم رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔ انصاری طبقہ کے علاوہ شہر میں قریشی، سبزی فروش، خان، صدیقی، عراقی، چوڑی فروش، حجام، ادریسی، منصوری، دھوبی، کندی گر وغیرہ بہت سی برادریاں ہیں جن کی تعداد انصاری فرقہ سے کم ہے، یعنی وہ اقلیت میں ہیں۔ اسی طرح کچھ محلے ایسے بھی ہیں جہاں دوسری برادری کے مقابلہ انصاری کی تعداد کم ہے تو وہاں انصاری اقلیت میں ہیں۔ شہر کی مشترکہ تہذیب کے علاوہ ہر برادری کی اپنی علیٰحدہ کچھ رسمیں اور تہذیب ہیں جن کو اختیار کرنے کے لئے وہ آزاد ہیں۔ دوسری طرف زندگی کے نظام میں سبھی ایک دوسرے سے منسلک ہیں اور آپس میں لازم و ملزوم ہیں اور اس طرح شہر کی ترقی میں سب کی اپنے اپنے انداز میں حصہ داری ہے۔ سابق چیئرمین نے اپنے کہا کہ کوئی بھی نہ تو اس شہر کے لئے بوجھ ہے نہ ہی غیر ضروری ہے ۔ ہمارے لئے ایک دوسرے کی اہمیت کو سمجھ کر سب کا احترام کرنا ضروری ہے۔ چونکہ مجموعی طور پر یہاں انصاری اکثریت میں ہیں اس لئے ان کی ذمہ داری بھی زیادہ ہے۔ شہر میں کسی بھی فرقہ یا برادری کو کسی طرح کی کوئی تکلیف نہ ہو نہ ہی کوئی احساس کمتری کا شکار ہو۔ ہمیں یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ شہر کا ہرفرد شہر کے لئے ضروری ہے۔ 

ارشد جمال نے کہا کہ ہمارا شہر کاروباری شہر ہے اور ضلع بننے کے بعد ایک بڑی تعداد کاروبار یا روزگار کی غرض سے آس پاس کے دوسرے شہروں، گاؤں اور قصبوں سے آکر یہاں آباد ہوگئی ہے۔ یہ لوگ اس شہر کے لئے قطعی بوجھ نہیں ہیں بلکہ یا تو ہمارے مہمان ہیں یا پھر اس شہر کی تعمیروترقی کے لئے کافی اہم ہیں۔ ہم انھیں کسی بھی طور نہ تو نظرانداز کرسکتے ہیں نہ ہی کمتر سمجھ سکتے ہیں۔ باہر سے آکر آباد ہونے والوں کے لئے ہمارا دل بڑاہونا چاہئے اور ہمیں بڑھکر انھیں گلے لگانا چاہئے۔ جو لوگ دوسرے مقامات سے آکر یہاں مستقل طور پر آباد ہوچکے ہیں اب وہ باہری نہیں رہے بلکہ ہمارے شہر کا ایک اہم حصہ بن چکے ہیں جو شہر کی تعمیر و ترقی کے لئے ضروری ہیں۔ انھیں باہری سمجھنا یا کم اہمیت دینا تنگ نظری اور بخل ہوگا جو ہماری روایت اور اسلامی تہذیب کے منافی ہے۔ ارشد جمال نے کہا کہ مؤ شہر کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہم پائیں گے کہ تعمیرو ترقی میں انصاریوں کے ساتھ غیرانصاری برادری اور باہر سے آئے ہوئے لوگوں کا بھی اہم رول رہا ہے۔ بعض اوقات باہر سے آئے ہوئے افراد نے وہ کارنامے بھی کئے جو یہاں کے مقامی نہ کرسکے تھے اور غیر انصاریوں نے بھی ایسے رول ادا کئے جو انصاریوں نے نہیں کئے ۔ 
یہی مسلّم حقیقت ہے کہ شہر کا ہر فرد اس شہر اور معاشرہ کے لئے اہم ہے ، وہی معاشرہ ترقی یافتہ ہوسکتا ہے جہاں اکثریتی فرقہ فراخ دل ہواور اقلیتوں کے حقوق و جذبات کا مکمل لحاظ رکھتا ہو۔ اقلیتوں اور دیگر کمزور طبقہ کو خاطر میں لائے بغیر صحت مند معاشرہ کا تصور بھی نہیں کیاجاسکتا۔ ارشد جمال نے اکثریتی فرقہ سے اپیل کی ہے کہ دل کو بڑا رکھیں اور معاشرہ کی خوشحالی کے لئے سب کو ساتھ لیکر چلیں۔

ارشدجمال، سابق چیئرمین، نگرپالیکا پریشد مؤ